آپ آف لائن ہیں
جمعرات17؍ذیقعد 1441ھ9؍جولائی2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عہدوں کی آفرز ہوچکیں، سیاست مجھ سے نہیں ہوگی، شہزاد رائے


کراچی (ٹی وی رپورٹ) معروف گلوکار شہزاد رائے نے جیو کے پروگرام ”آپس کی بات “ میں میزبان منیب فاروق سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ کوئی لڑکی آکر مجھ سے محبت کا اظہار کرے تو اسے بھی پڑھائی پر توجہ دینے کا کہوں گا.

گلو کار جواد احمد نے کہا کہ مجھے سیاست تک آنے کیلئے بہت لمبی دوڑ لگانی پڑی، عمران خان اور دیگر سیاسی قائدین نے مجھے اپنی پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی، گلوکار ہارون نےکہا کہ کوشش ہوتی ہے زیادہ تر گھر پر ہی رہوں۔

شہزاد رائے نے کہا کہ میں نے عید فیملی قریبی لوگوں کے ساتھ مل کر ہی منائی ہے ، میں والدین کے ساتھ رہتا ہوں اس لئے میں نے جو لوگ دور رہتے ہیں ان کو منع کردیا تھا عید پر ملاقات سے کیونکہ مجھے اپنی والدین کا زیادہ خیال رکھنا ہے ہاں اگر میں اکیلا رہ رہا ہوتا تو شاید ان سے ملاقات کا رسک لے بھی لیتا ۔ 

بہرحال میرا تو یہی مشورہ ہوگا کہ عید دور رہ کر ہی منائی جائے ۔ 

ایک دوسرے سے گلے ملنے سے اجتناب کیا جائے ۔جواد احمد کے حوالے سے شہزاد رائے نے کہا یہ سیاسی آدمی ہوگئے ہیں اب ان سے مجھے سیاست کے حوالے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ۔ ان کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ اگر کوئی لڑکی آکر ان سے محبت کا اظہار کرتی تو یہ اس کو بھی پڑھائی پر توجہ دینے کا کہیں گے ۔ 

انہوں نے اپنی آرگنائزیشن زندگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہم نے اس پر ایک کری ایشن بنائی بولتے کیوں نہیں جس کا مقصد بچوں میں آگاہی پیدا کرنا تھا کہ وہ کسی بھی چیز کو چھپائیں مت اس کا اظہار اپنے والدین سے کریں ، اپنے قریبی لوگوں سے جن کے وہ قریب ہوں ان سے کریں ۔ 

انہوں نے کہا کہ کورونا کے حوالے سے دو منٹ کی ایک وڈیو بنارہے ہیں اس کے علاوہ اور بھی بہت سار ا کام بچوں کے حوالے سے کیا جارہاہے ۔شہزاد رائے سے پوچھے گئے سوال کہ اگر حکومت کوئی عہدہ دے تو قبول کرلیں گے کے جواب میں انہوں نے کہا مجھے بہت ساری ہائی آفرز ہوچکی ہیں اور بہت مشکل وقت میں بھی ہوئی ہیں لیکن میں نے ان آفرز کو قبول اس لئے نہیں کیا کہ میں سمجھتا ہوں کہ سیاست مجھ سے ہوگی نہیں ۔ 

گلوکار ، ہدایت کار ہارون نے اپنی گفتگو میں کہا کہ کوشش ہوتی ہے زیادہ تر گھر پر ہی رہوں لیکن اکثر اوقات باہر نکلنا ضروری بھی ہوجاتا ہے ، لوگ جانتے بھی ہیں تو ان کی کوشش ہوتی ہے کہ مجھ سے ہاتھ ملائیں اس موقع پر میں ان کو دور رہنے کا کہتا ہوں مجھے یہ اچھا محسوس نہیں ہوتا ہے اور شاید وہ بھی محسوس کرتے ہیں لیکن اس وقت جو کورونا کی وجہ سے صورتحال ہے اس میں یہ ضروری ہے ۔ 

یہ سماجی فاصلوں والی عید ہے ، میری والدہ چند ہفتے کے لئے یو کے گئی تھیں اور اس کے بعد سے آج تین ماہ ہوگئے ادھر ہی ہیں میں نے ان کے بغیر ہی عید منائی ہے ،میرے ساتھ میرا بھائی ہے جبکہ برابر والے گھر میں چاچا اور ان کی فیملی رہتی ہے بس ہم سب نے ہی مل کر عید منائی ہے ۔

کوئی ہلہ گلہ نہیں کیا ، کوئی باہر ملنا جلنا نہیں ہوا ۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ وڈیو لنک کے ذریعے ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں رہے ہیں ۔

اہم خبریں سے مزید