آپ آف لائن ہیں
جمعرات17؍ذیقعد 1441ھ9؍جولائی2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کچھ عرصہ قبل تک امریکہ اور یورپ میں مسلمان خواتین کے چہرے پر نقاب لینے یا منہ ڈھکنے کے خلاف قوانین بنائے جارہے تھے اور نقاب میں ملبوس مسلم خواتین کو تضحیک کا نشانہ بنا کر اُن پر جرمانے عائد کئے جارہے تھے اور انہیں جیل بھیجا جارہا تھا حتیٰ کہ اُن کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کیا گیا۔ مسلمان خواتین کے نقاب پر پابندی کی ابتدا 2010میں فرانس سے ہوئی جہاں مسلمان بچیوں کو نقاب میں اسکول جانے کی اجازت نہیں تھی جبکہ دفاتر سے نقاب میں ملبوس خواتین کو برطرف کیا جارہا تھا۔ فرانس کے بعد یورپ کے دوسرے ممالک اسپین، بلجیم، اٹلی، سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ اور ڈنمارک نے بھی فرانس کی تقلید میں کالجوں، یونیورسٹیوں، اسپتالوں، پارکس اور دیگر عوامی مقامات پر مسلمان خواتین کے نقاب لینے یا حجاب پہننے پر پابندی عائد کردی۔ مسلمان خواتین کے ساتھ ناروا سلوک اور زیادتی پر میں نے کئی کالمز بھی تحریر کئے تھے۔مجھے آج یہ کالم تحریر کرتے ہوئے مصر سے تعلق رکھنے والی خاتون مروا شیربینی یاد آرہی ہے جسےجرمنی میں محض اِس بنا پر قتل کردیا گیا کہ وہ حجاب لیتی تھی اور اس کا حجاب پہننا اسکے جرمن پڑوسی کو پسند نہ تھا جو اسےتحقیر آمیز نظروں سے دیکھتا اور مسلم انتہا پسند اور دہشت گرد جیسے القابات سے نوازتا تھا۔ شیربینی اور اس کے شوہر نے پولیس میں پڑوسی کی رپورٹ درج کرائی اور عدالت نے الیکس کو توہین مذہب کا مجرم قرار دے کر اُس پر 780یورو جرمانہ عائد کیا۔ کمرہ عدالت میں موجود الیکس نے طیش میں آکر حجاب میں ملبوس شیربینی کو چاقو کے پے درپے وار کرکے صرف اس لئے قتل کردیا کہ وہ اسے حجاب میں دیکھنا پسند نہیں کرتا تھا۔

یورپ کی طرح امریکہ میں بھی ایسے کئی واقعات رونما ہوئے تھے جس میں مسلم خواتین کے سرسے اسکارف اورچہرے سے نقاب زبردستی نوچے گئے تھے۔ امریکی صدر ٹرمپ نقاب اور حجاب کے مخالف سمجھے جاتے تھے اور ان کے برسراقتدار آنے کے بعد اضافہ دیکھنے میں آیا لیکن آج اللہ کی قدرت کہ امریکہ اور یورپی ممالک کے حکمراں کورونا وائرس کے باعث خواتین کو منہ ڈھانکنے کے مشورے دے رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان نے مجھے حیرت زدہ کردیا جس میں انہوں نے امریکی خواتین کو اسکارف پہننے اور منہ ڈھانکنے کا مشورہ دیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ملک میں تیزی سے بڑھتے ہوئے کورونا کیسز اور ماسک کی کمی کے باعث امریکی خواتین اسکارف پہنیں اور منہ کو کپڑے سے ڈھانپیں تاکہ کورونا وائرس سے محفوظ رہ سکیں۔ کچھ عرصے پہلے تک ٹرمپ اسکارف پہننے اور نقاب کرنے کے شدید مخالف تھے اور نقاب اور اسکارف میں ملبوس مسلم خواتین کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے لیکن آج وہ اپنے ملک کی خواتین کو نقاب اور حجاب کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی منشور میں یہ شامل تھا کہ وہ برسراقتدار آنے کے بعد میکسیکو کے ساتھ ملنے والی سرحد پر دیوار تعمیر کرائیں گے تاکہ میکسیکو سے غیرقانونی طور پر لوگ امریکہ میں داخل نہ ہوسکیں۔ ٹرمپ نے میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر پر اربوں ڈالر خرچ کرڈالے جو ابھی تک زیر تعمیر ہے لیکن امریکہ میں بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کی وجہ سے میکسیکو، امریکہ سے ملنے والی سرحد پر دیوار کی تعمیر کا مطالبہ کررہا ہے تاکہ کورونا سے متاثرہ امریکی، میکسیکو میں داخل نہ ہو سکیں۔ کچھ اسی طرح کی صورتحال سے اسپین بھی دوچار ہے جو اپنے پڑوسی ملک مراکش سے ہمیشہ اس بات پر اصرار کرتا تھا کہ بارڈر سیکورٹی کو سخت کیا جائے تاکہ مراکشی غیرقانونی تارکین وطن اسپین میں داخل نہ ہو سکیں مگر آج مراکش، اسپین پر زور دے رہا ہے کہ وہ اپنی سرحدی سیکورٹی کو سخت کرے تاکہ کورونا سے متاثرہ اسپین کے باشندے مراکش میں داخل ہوکر ان کے شہریوں کو کورونا میں مبتلا نہ کردیں۔

امریکہ اور یورپ سمیت کئی مغربی ممالک خود کو انسانی حقوق اور مذہبی رواداری کا چیمپئن قرار دیتے تھے جہاں انسانی حقوق کے نام پر بے راہ روی انتہا کو پہنچ چکی تھی جبکہ نقاب لینے یا حجاب پہننے پر مسلم خواتین کو سخت سزائیں اور جرمانے کئے جاتے تھے لیکن آج کورونا وائرس کی خطرناک وبا کے باعث ان ممالک میں صورتحال یکسر بدل چکی ہے اور امریکہ اور یورپ کے لوگ اپنے ہی ملک میں نافذ نقاب اور حجاب پر پابندی جیسے قوانین کی خلاف ورزی کا ارتکاب کرکے اور اسلامی قانون پر عمل پیرا ہوکر مسلمانوں سے منہ چھپاتے پھررہے ہیں۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ آج سے قبل امریکہ اور یورپ میں مسلمانوں کے پنج وقتہ وضو اور رفع حاجت کے بعد پانی کے استعمال کو غیر مسلم تنقید اور تضحیک کا نشانہ بناتے تھے مگر آج وہ خود اس کی افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے کورونا وائرس سے بچائو کا اہم ذریعہ قرار دے کر اپنارہے ہیں۔ یہ اللہ کی قدرت ہے کہ ایک وائرس یورپ اور امریکہ کے حکمرانوں اور عوام کی سوچ میں تبدیلی کا سبب بنا۔